الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مخصوص طور پر ختم اور مسجد میں کھانا کھلانا اور چھینا جھپٹی

سوال

یہاں پر آستا نہ بھنڈارہ کے نام سے رسماً صدقہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور بصورت آٹا، چاول، یا نقد جمع کر کے کھانا پکایا جاتا ہے، پھر ختم شیخ جیلانی ختم خواجگاں ختم سلطان العارفین وغیرہ ہوتا ہے، صرف خانہ پری کے لئے آیت قرآنی کی تلاوت بھی ہوتی ہے، پھر حضرت فلاں فلاں المدد وغیرہ کے نعرے لگاتے ہیں، علاوہ اس کے بہ لحن وصوت درود شریف ومناقب اولیاء کی یاددہانی کی جاتی ہے، صاحب وجاہت لوگ کھانا تقسیم کرتے ہیں، پہلے مجلس پڑھنے والوں کو کھلاتے ہیں، پھر عوام الناس کو مسجد ہی میں تقسیم کرتے ہیں، دوران تقسیم خاصی گالی گلوچ، چھینا…

جواب

یہ صورت اور تقریب قرآن کریم وحدیث شریف، آثار صحابہ کرام، فقہ ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں، حسن تدبیر نرمی وشفقت سے اس کو روکا جائے احترام قبرستان کے بھی یہ خلاف ہے، احترام مسجد کے بھی خلاف ہے، احترام ائمہ کے بھی خلاف ہے، جبراً چندہ لینا بھی ظلم ہے، اس کا کھانا بھی حلال نہیں لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مسلم إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ، (الحديث)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو