غالب کا ایک شعر
سوال
زید نے ایک شادی کی تقریب میں اپنے دوست کو تاثرات پیش کئے جو نثر میں اس نے لکھے تھے، اور ان تأثرات میں تمثیلی طور پر غالب کا یہ شعر: نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے لکھدیا ہے بکر کو یہ اعتراض ہوا کہ اس شعر کو پڑھ کر نعوذ باللہ زید نے حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی ہے، یہ بات بکر نے بھری محفل میں کہی، نتیجہ یہ ہوا کہ محفل کے بہت سے افراد زید کی طرف سے مشکوک ہو گئے، وہ بھی یہ سمجھنے لگے کہ زید نے نعوذ باللہ توہین کی ہے، جب کہ زید برابر ان سے یہ کہہ رہا ہے کہ میرے خیال…
جواب
حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ پاک نے اپنا خلیفہ اور ابوالبشر (تمام انسانوں کے باپ) بنایا اور جنت کی نعمتوں میں رکھا، پھر ایک واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے زمین پر ان کو بھیجدیا بظاہر یہ واقعہ بہت ہی عبرت کا ہے شاعر کا مقصد یہ ہے کہ ہم محبوب کے نزدیک خاص عزت کے مستحق تھے، جس طرح آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاص عزت کے مستحق تھے، مگر وہ عزت سے بیگانہ ہوکر (نعوذ باللہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔