صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب عادل ہیں
سوال
ایک شخص تاریخی واقعات پر نظر کرتے ہوئے صحابہ کرام کے درمیان حق اور ناحق کا فیصلہ کرتا ہو تو یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں؟ اگر ایک کو حق دوسرے کو ناحق کہتا ہو تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناحق کہنے کا حق ہے تو پھر اس حدیث کا کیا جواب ہوگا ”مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى اَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ“
جواب
صحابہ کرام، سب واجب الاحترام ہیں کسی کی شان میں گستاخی وتوہین جائز نہیں ان کے مشاجرات میں کف لسان کا حکم ہے۔ گو اتنی بات صحیح ہے کہ ان میں بعض افضل ہیں بعض سے لیکن کسی کے متعلق بھی یہ کہنا درست نہیں کہ وہ ضلالت پر تھے، جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو سب وشتم کرے اسپر لعنت وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔