الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضرت داؤد علیہ السلام سے متعلق ایک عقیدہ

سوال

ایک شخص حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کا امتحان دراصل اس بات میں تھا کہ ایک دن عبادت کے لئے انہوں نے اس طرح خاص کر لیا تھا کہ اس دن وہ مخلوق سے بے تعلق ہو جاتے تھے، ایک صوفی مرتاض کی ایسی گوشه نشینی اور ترک علائق کو تو پسندیدہ کہا جا سکتا ہے لیکن ایک خلیفہ وقت اور مسلمانوں کے سیاسی امیر کے لئے گوشہ نشینی اور وہ پورے ایک دن کے لئے کسی طرح موزوں نہیں کہی جاسکتی، تو ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

جس شخص کا یہ عقیدہ ہے اگر وہ زندہ ہے تو خود اس سے دریافت کیا جائے، اگر زندہ نہیں تو اس نے جس کتاب میں اپنا یہ عقیدہ لکھا ہے وہ کتاب یہاں بھیجدی جائے، یا اس کتاب کا نام مطبع صفحہ لکھ دیں، تا کہ اس کو دیکھ کر جواب لکھا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو