الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرآن پاک میں نبیوں کیلئے جو الفاظ آئے ہیں، ان کا مفہوم

سوال

(۱) کیا ان آیات مقدسہ میں اللہ عز وجل نے جو الفاظ فرمائے ہیں کیا وہ واقعی عظمت رسالت کی سبکساری، عصمت نبوت کی درماندگی، یا انبیاء علیہم السلام کی کفار ومشرکین کے سامنے اہانت، پامالی اور بے وزنی ظاہر کرنے کے لئے فرمائے گئے ہیں، یا پھر ان ہی لفظوں کو بطور اظہار عظمت رسالت ونبوت فرما کر مرسلین کے صادق المصدوق ومقام محمود کے مکیں ہونے کی شہادت کے سلسلہ میں پیش کیا گیا ہے: (۲)

جواب

خدائے جل وعلا نے جس مادے سے انسان کے اعضاء کو پیدا کیا، اس کے قلب کو اس سے لطیف مادے سے پیدا کیا، اس وجہ سے قلب میں لطافت زیادہ ہوتی ہے، اور جس مادے سے عامہ مومنین کے قلوب بنائے جاتے ہیں، خواص واولیاء کے اجسام اس مادے سے بنتے ہیں، تو ان کے قلوب اور زیادہ لطیف مادے سے بنتے ہیں، جن میں الہامات ومعارف کے برداشت کی قابلیت ہوتی ہے، اور جس مادے سے خواص واولیاء کے قلوب بنتے ہیں، اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو