کیا حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں
سوال
کیا قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کا چوتھے آسمان پر مجسم اٹھایا جانا ثابت ہے، اور پھر زمین پر اترنا، اگر یہ صحیح ہے تو پھر وہ آیت نقل فرمادیں۔ ہمارے یہاں مسلمانوں میں یہ جھگڑا چل رہا ہے، کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات شدہ ہیں یا با حیات از روئے قرآن، درست کیا ہے؟ زید کہتا ہے کہ توفی باب تفعل سے ہے اور اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام ذی روح ہیں اور مفعول ہیں ایسی صورت میں توفی کے معنی سوائے قبض روح کے اور کچھ نہیں ہوتے اس کے خلاف قرآن سے کوئی مثال دیجئے؟
جواب
جواب سے پہلے اولاً بطور تمہید ایک بات ذہن نشین کر لیں، اس کے بعد سمجھنے میں سہولت ہوگی۔ اصالہ ہدایت کا سر چشمہ قرآن کریم ہے ”هدى للناس، لیکن اس میں عموماً بنیادی اصول دینی امور کو بطور ضابطہ کلیہ مختصراً بیان کیا گیا ہے، تفصیلات وتشریحات کا بیان کرنا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہے “لتبين للناس مانزل اليهم” مثال: (۱) قرآن پاک میں ہے، اقیموا الصلوۃ (نماز قائم کرو)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔