علم غیب کلی عطائی
سوال
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں نفی علم غیب کی ہے وہ ذاتی کی ہے عطائی کی نہیں، خدا تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم غیب ہے اور عطاء بھی تمام ذرہ ذرہ کا ہے جو آپ ہماری حرکات وسکنات کو دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں ایسے معتقد کا کیا حکم ہے اسکے پیچھے نماز جائز ہے؟
جواب
یہ قول بلا سند ہے، نصوص میں کہیں اس کی تصریح نہیں۔ من ادعى فعليه البیان
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔