الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

علم غیب

سوال

ایک شخص کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کل علم غیب آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا تھا، اور اب بھی آپ حاضر وناظر وعالم بجميع الاشیاء ہیں، اور وہ برسر اجلاس اپنے خطبہ جمعہ ووعظ وتقریر میں بیان کرتا ہے کہ یہی عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے، اس کے خلاف جس کا عقیدہ ہے وہ گمراہ ہے، اس کے پیچھے نماز درست نہیں، اور کہتا ہے کہ جن آیات قرآن مجید سے علم غیب کی نفی کی ہے وہ منسوخ ہیں، اور جو آیت سورہ قل اوحی میں ہے: عالم الغيب فلا يظهر على غيبه احدا الامن ارتضى من رسول الآية، یہ سب کی ناسخ ہے، اب عرض یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کو غیب داں نہ…

جواب

علم غیب کلی طریق پر کہ کوئی ذرہ مخفی نہ رہے بلکہ ہر شئی ہر وقت سامنے ہو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، ہر جگہ حاضر وناظر اور ہرشی سے باخبر ہونا اسی کی صفت خاصہ ہے، کوئی ولی یا نبی یا فرشتہ اس صفت میں شریک نہیں، لہذا کسی اور کو اس صفت میں شریک اعتقاد رکھنا شرک ہے، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ذات وصفات باری تعالیٰ کا علم تمام مخلوقات میں حضور ﷺ کو سب سے زیادہ عطا ہوا ہے، انبیاء…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو