علم غیب
سوال
ایک شخص عقیدہ رکھتا ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علم کلی عطا کیا تھا، حتی کہ اس کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ تمام امور جو کہ دنیا میں ہیں اور جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے حتی کہ دوزخی جو دوزخ میں داخل ہونگے بہشتی جو بہشت میں داخل ہونگے اور یہ بھی کہتا ہے کہ حضور ﷺ درختوں کے پتے اور ریت کے ذرے ان تمام کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح کہ اپنی کف مبارک کو دیکھتے ہیں، ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ (۲)
جواب
(۱) ایجاب کلی کا دعویٰ یعنی حضور ﷺ کو جمیع مغیبات کا علم تھا، باری تعالیٰ کے اور آپ کے علوم کماً مساوی تھے، فرق صرف ذاتی اور عطائی کا تھا غلط اور خلاف نصوص ہے، سلب کلی کا دعویٰ یعنی یہ کہ آپ کو کسی غیب کا علم عطا نہیں ہوا، یہ بھی غلط ہے اور خلاف نصوص ہے، اول کی تردید کے لئے سلب جزئی کافی ہے ثانی کی تردید کیلئے ایجاب جزئی کافی ہے چنانچہ دونوں سلب جزئی وایجاب جزئی کے شواہد کثیرہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔