اسماء الہی دوسری زبانوں میں
سوال
شحنہ شریعت، رسالہ میں ہے کہ اللہ کو صرف انہیں ناموں سے یاد کرنا لازم ہے جو قرآن میں بتلائے گئے ہیں، جیسے رحمن، ستار، غفار، وغیرہ اور اللہ پاک کو ایسے اسماء سے موسوم نہ کرنا چاہئے، جو اس میں نہیں بتلائے گئے، معنی خواہ اس کے اچھے ہوں خواہ خراب جیسے گاڈ، ایزد، یزدان، رام، ایشور، پرمیشور، پروردگار وغیرہ اگر فارس کا رہنے والا فارسی زبان میں خدا کہتا ہے جو اسکی مادری زبان ہے، اسی طرح ہندوستان کا رہنے والا جس کی مادری زبان ہندی ہے، ہندی زبان میں رام کہتا ہے، پھر خدا اور رام میں کیا فرق ہے، اگر خدا کہنا جائز ہے تو رام…
جواب
اگر مراد یہ ہیکہ جواز کا دارو مدار صرف ان ناموں پر ہے جو کہ قرآن کریم میں وارد ہوئے ہیں، تو بڑی دقت پیش آجائیگی، اسلئے کہ شاید قرآن شریف میں تمام اسماء حسنی بھی موجود نہ ہوں، نیز کتب سابقہ تورات، انجیل، زبور، صحف ابراہیم وموسیٰ کیا سب عربی میں ہیں اور انمیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء مبارکہ مذکور ہیں انکے متعلق صاحب شحنہ کیا کہیں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔