ختم قرآن کی نذر
سوال
بیوی کو دردزہ میں مبتلا دیکھ کر شوہر یا دیگر رشتہ داروں نے کہا اگر اللہ میاں اس مصیبت سے نجات دے تو ختم قرآن کراؤنگا، یا یوں کہا کہ اس مصیبت میں اللہ واسطے کچھ کرنا چاہئے، اس پر کسی نے کہا کہ ختم یونس پڑھا لو اس پر سب راضی ہو گئے، اب مذکورہ دونوں صورتوں میں ایفاء واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو اجرت لیکر پڑھنے والے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
نذر اسی چیز کی صحیح ہوتی ہے، جو عبادت مقصودہ اور جنس واجب سے ہو، چنانچہ قرآن کریم بھی ایسی ہی عبادت ہے نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے، فقہاء نے اعتکاف کی نذر کو صحیح تسلیم کیا ہے، جس کی حقیقت لبث فی المسجد برائے عبادت ہے اور اس کا ماخذ یہ تجویز کیا ہے کہ نماز میں قعدہ ضروری ہے، جو کہ لبث ہے، اسی طرح اگر کہا جائے کہ نماز میں قراءة فرض ہے ”لقوله تعالى فاقرؤا ماتيسر من القرآن “ تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔