حضرت سیدہ کی کہانی سننے کی نذر ماننا
سوال
اس سوال کے ساتھ ایک کتابچہ بھی جناب سیدہ کی کہانی سے منسلک ہے، بعض علاقوں میں یہ کتاب جناب سیدہ کی کہانی جو صاحب لے کر پہنچے انہوں نے اس کتاب کے فوائد کو ذکر کرتے ہوئے، یہ کہا کہ اگر کسی کی کوئی حاجت پوری نہ ہوتی ہو تو وہ یہ نذر کرلے کہ جب وہ یہ میری فلاں حاجت پوری ہوگی تو جناب سیدہ کی کہانی سنوں گی، اس سے اس کی وہ مراد پوری ہو جائے گی، خصوصاً عورتوں میں یہ بات بیان کر کے، اسکی ترغیب دی گئی، اور پھر اس کتاب میں کہانی ایسی ہی ہے جس کی وجہ سے عورتوں پر ایک خاص اثر ہوا اور سب نے نذر ماننا شروع کر دیا، کہ میری فلاں…
جواب
کتاب” جناب سیدہ کی کہانی بے اصل باتوں پر مشتمل ہے اہل سنت والجماعت کے کسی مخالف نے مسلمان مردوں کو عموماً اور عورتوں کو خصوصاً گمراہ کرنے کے لئے یہ لکھی ہے اس کے سننے کی نذر ماننا لغو اور اس کا سننا اضاعت وقت ہونے کے ساتھ غلط باتوں کا ذہن نشین کرنا ہے، عورتوں کو سمجھا دیا جائے کہ وہ اس کی باتوں پر یقین نہ کریں، جناب سیدہ رضی اللہ عنہا کے صحیح فضائل اور حالات معتبر کتابوں میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔