نذر کی تحقیق کرنا
سوال
اگر جمعہ کے دن کسی قسم کی مٹھائی کوئی لا کر تقسیم کرے، اور لوگ اس کو بغیر دریافت کئے کہ کیسی ہے کس کے نام کی ہے، اور کس قسم کی تو کیا ایسی مٹھائی کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی کہے کہ میرا بیٹا اگر اس بیماری سے اچھا ہو جائے تو میں مسجد میں مٹھائی تقسیم کرونگا، تو اس کا کھانا کیسا ہے؟
جواب
اگر شبہ ہو تو تحقیق کرے کہ یہ مٹھائی کیسی ہے، اگر شبہ نہ ہو تو بلا وجہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، دل چاہے لے نہ دل چاہے نہ لے دع مایریبک الى مالا يريبك (الحديث) بیٹے کے اچھے ہونے پر مٹھائی خدا کے واسطے تقسیم کرنے کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے، تو یہ نذر ہے بیٹے کے اچھے ہونے پر مٹھائی خدا کے واسطے میم کرنے کو اور نذر کے مستحق غرباء ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔