ذبح بقرة کی نذر
سوال
زید نے اپنی سالی کی شادی کے لئے اس نیت سے بقر خریدا کہ بطور نیاز فی سبیل اللہ دعوت ولیمہ میں یا محض دعوت ولیمہ میں اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت صرف کیا جائے، کسی وجہ سے لڑکی والے نے عقد شرعی سے انکار کر دیا، چند روز بعد لڑکے والے لڑکی مذکور کو اپنے یہاں بھگا لے گئے، اور بغیر عقد شرعی رکھا اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ہاں نیاز ہے اور بقر مذکور کو ذبح کے لئے تیار ہو گئے، بکر کہتا ہے کہ بغیر عقد شرعی بقر مذکور کا ذبح کرنا نا جائز ہے، زید تسلیم نہیں کرتا، لہذا دو امر دریافت طلب ہیں؟ (۱)
جواب
(۲،۱) اگر منت مانی بطور نیاز ذبح کرنے کی تو اس کو نیاز کے طور پر ذبح کرنا چاہئے جس کے مستحق غرباء اور مساکین ہیں اور ولیمہ میں خصوصیت غرباء کی نہیں ہوتی اور ولیمہ عقد شرعی اور زفاف کے بعد ہوتا ہے اور صورت مسئولہ میں نہ ولیمہ ہے نہ نیاز البتہ اگر غرباء کی خصوصیت کر دی جائے، تو نیاز کی صورت ہو سکتی ہے، اگر عقد شرعی اور زفاف کے بعد محض فقراء کو ذبیحہ کھلا یا جاوے تو دونوں ممکن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔