علماء دین سے میل ملازم کی طرح کام لینا
سوال
خطہ گجرات میں جب کسی عالم کی ضرورت ہوتی ہے کچھ شرائط لگا کر طلب کرتے ہیں۔ دو یا پانچ سال بعد حیلہ کر کے اسے نکالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ شرائط قبول کرنے کے بعد وقت کے لئے آتا ہے مگر اس پر طرح طرح کا کام ڈال دیتے ہیں۔ مثلاً فتوی دینے کے لئے اگر کسی کو رکھا ہے تو اگر اتفاق سے کبھی نہیں آیا تو مدرسہ کی دوسری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔ تو اگر وہ عالم انکار کر دے تو کیا درست ہے؟
جواب
جو معاملہ صاف صاف طے کیا جائے اس کی پابندی کے باوجود ملازم کو علاحدہ کرنے کے لئے حیلہ بہانا کرنا اور اس پر زیادہ بار ڈالنا جائز نہیں۔ اور جبکہ اس سے ایک سال کا معاہدہ ہے تو بلا وجہ اس کو الگ بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے ملازم بھی بد دل ہوتا ہے اور آئندہ کو کام کا آدمی بھی سہولت سے نہیں ملتا۔ ادارہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ ادارہ میں ہمیشہ نئے نئے آدمی آنے سے خیر و برکت بھی نہیں ہوتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔