الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ادارہ میں ملازمت کے لئے جھوٹی سند دینا

سوال

میں جس ادارہ میں ہوں وہاں کچھ حضرات ایسے آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے یہاں کے ادارہ میں ماسٹر رکھا دو اور تصدیقی سند لکھ دو تا کہ ہم پرائیویٹ طور پر امتحان دے سکیں، حالانکہ یہ تحریر بالکل جھوٹی ہوگی، جبکہ جھوٹ حرام ہے۔ اس لئے میرے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

جو شخص آپ کے ادارہ میں ملازم نہیں، اس کو ملازم کہنا اور سند دینا جھوٹ ہے، مکر ہے، شرعاً اس کی اجازت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو