مہتم اگر زکوۃ صحیح مصرف میں خرچ نہ کرے تو کیا ملازم اپنے طور پر صرف کر سکتا ہے؟
سوال
زید اور بکر دونوں دیو بند کے فارغ ہیں۔ زید ایک عربی مدرسہ کا ناظم ہے۔ اس مدرسہ میں بظاہر صدر مہتمم ممبران سب کچھ ہیں۔ لیکن مدرسہ کا سارا کام لوگوں نے زید کے سپرد کر دیا ہے اور وہی سیاہ وسفید کا مالک ہے۔ مدرسہ میں زکوۃ، صدقات، امداد نیز مسجد کے نام پر بھی مدرسہ کی مسجد میں رقم آتی ہے۔ زید ان تمام رقومات کو مدرسہ کے صدر اور مہتم اور بعض ممبران کے پاس رکھ دیتا ہے۔ یہ سب لوگ تاجر ہیں، مدرسہ کی رقم کو تجارت میں لگا دیتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق زیدان لوگوں سے رقم لے کر مدرسہ میں صرف کرتا ہے۔
جواب
بکر ملازم ہے جتنا اختیار اس کو دیا گیا ہے اس سے زائد تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا، خواہ کتنا ہی نیک نیت ہو۔ بکر کی طرح اگر ہر ملازم اس طرح کرنے لگے تو کسی کو کیسے روکا جائے گا اور ہر شخص پر کیسے اعتماد کیا جائے گا۔ اس لئے بکر کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ زید کی روش میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔