نابالغ شاگرد سے خدمت لینا
سوال
ایک معلم صاحب جو کہ پیش امام بھی ہیں، کیا وہ اپنے کسی شاگرد نابالغ سے وضو کے لئے پانی منگا کر طہارت کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ روز ایسا ہی کرتے ہیں، اور اسی وضو سے نماز پڑھاتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ (۲) بہت سے لوگ جو کہ دستکار ہیں وہ اپنے چھوٹے چھوٹے شاگردوں سے جو کہ نابالغ ہیں ان سے پانی منگا کر پی سکتے ہیں۔ وہ خود آرام کرتے ہیں اور شاگرد بے چارے پنکھا جھلتے رہتے ہیں، کیا ان کا یہ طریقہ درست ہے؟
جواب
(۱) ان کی تربیت کے لئے اور سلیقہ سکھانے کے لئے پانی منگانا اور اس پانی سے وضو کرنا اور اس وضو سے نماز پڑھنا پڑھانا سب درست ہے۔ حضرت انس سے وقتا فوقتا نبی اکرم ﷺ کام لیتے اور وہ اس وقت نابالغ تھے۔ حضرت ابن عباس نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے لئے پانی لا کر دیا جب کہ وہ نا بالغ تھے۔ (۲) اس کا حکم بھی (۱) سے معلوم ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔