الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چندہ کے لئے معطی پر اصرار، تدریس کے ساتھ تجارت

سوال

کسی نیک کام کا چندہ وصول کرنے کیلئے چندہ دینے والوں کو پریشان کرنا مثلاً چندہ دینے والا پانچ دس روپیہ دیتا ہے اور وصول کرنے والے خوشامد کر کے یا خفگی کا اظہار کر کے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ اور زیادہ دو تو مجبوراً زیادہ دیتا ہے۔ تو کیا اس طرح چندہ کرنا جائز ہے؟ اور ایسے چندہ کو کار خیر میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟ یہاں پر بعض عالم اس قسم کے چندہ کو بالکل ناجائز اور حرام بتاتے ہیں۔ حالانکہ فتویٰ دارالعلوم میں ایسے چندہ کو کارِ خیر میں لگانا جائز لکھا ہے۔

جواب

(۱) چندہ کا یہ طریقہ غلط اور ممنوع ہے، جیسا کہ امداد الفتاوی جلد رابع میں حضرت تھانوی نے ممنوع لکھا ہے۔ اور فتاوی دار العلوم میں بھی یہی ہے۔ لیکن اس قسم کے چندہ کا طریقہ نا جائز ہونے کے باوجود کار خیر میں لگانا جس طرح حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب سے آپ نے نقل کیا ہے کہ درست ہے۔ اسی طرح حضرت تھانوی نے جس جگہ نا جائز لکھا ہو اس کو بھی نقل کر دیں تو غور کر لیا جائے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو