الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رسمی رقموں کی وصولی اور خرچ

سوال

میں ایک سرکاری مکتب کا معلم ہوں۔ اس لئے سرکاری تنخواہ کے علاوہ مکتب کے طلباء و عوام سے تعلق رکھتے ہوئے چند آدمیوں کا جو قدیم رواج مدت سے ہے اور ابھی تک چلتا آ رہا ہے علماء دین سے فیصلہ لینا چاہتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آمدنی میرے حق میں کیسی ہوگی؟ (۱) کسی تقریب کا جیسے ۱۵ اگست، ۲۶ جنوری ٹیچرس ڈے ششماہی و سالانہ امتحانات کے موقع پر بچوں سے تقریب کے خرچ کے تخمینہ سے زیادہ رقم وصول کرنا اور خرچ سے بچی ہوئی رقم کو اپنے مصرف میں صرف کرنا شریعت کی رو سے کیسا ہوگا؟ (۲)

جواب

(۱) رقوم دینے والوں کو اگر علم ہو کہ خرچ سے زائد حصہ آپ رکھتے ہیں اور وہ اس پر رضا مند ہوں تو جائز ہے۔ (۲) جبر جائز نہیں۔ زبردستی کی ہوئی رقم کا واپس کرنا ضروری ہے۔ لا يحل مال امرء مسلم الا بطيب نفس منه (الحدیث) بخوشی دی ہوئی رقم کا استعمال کرنا درست ہے کہ یہ ہدیہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو