چندہ کر کے مدرسہ تعمیر کرنا اور اس کو اپنا مکان کہنا بہشتی زیور کے بعض مسائل کو صحیح نہ جاننا
سوال
ایک مولوی صاحب کے پانچ بھائی موجود ہیں، انہوں نے اپنے باپ سے ۱/۸ بیگہ زمین مدرسہ کے نام سے اپنے نام بیع نامہ کرالیا۔ چکبندی کے محکمہ نے اس بیع نامہ کو مان لیا۔ باپ نے وہ زمین وقف للمدرسہ نہیں کی۔ اب چکبندی میں اس کا چک علیحدہ کٹے گا۔ مولوی صاحب موصوف سے لوگ وقف کرنے کے لئے کہتے ہیں تو وہ اسے وقف نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اگر میں وقف کر دوں تو مجھے یہاں سے نکال دیں گے۔ مدرسہ کے لئے چندہ خود ہی کرتے ہیں۔ کہنے پر بھی حساب نہیں دکھاتے۔ چندہ میں امداد، زکوۃ، صدقہ وغیرہ ہر قسم کا مال آتا ہے۔
جواب
زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کو نہ تعمیر مدرسہ میں خرچ کرنا جائز ہے۔ نہ تنخواہ میں صرف کرنا درست ہے۔ بلکہ وہ تو نا دار غریبوں کو دینا واجب ہے۔ چندہ کر کے مدرسہ تعمیر کرنا اور یہ کہنا کہ یہ تو مکان میرا ہے غلط طریقہ ہے ان کو ان سب کی اصلاح لازم ہے۔ مسائل کیا غلط بتاتے ہیں بغیر تفصیل سامنے آئے کیا کہا جائے۔ مولوی صاحب اگر اپنے حالات ٹھیک نہ کریں تو ان کو امام بنانا مکروہ ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔