الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ادائے حقوق ملازمین میں کوتاہی کرنے والے رئیس کی دینی ادارہ میں امداد

سوال

ایک رئیس جو کہ مسلمان ہیں اور نماز روزہ کے پابند ہیں، ساتھ ہی تبلیغی جماعت میں بغرض تبلیغ دور دور تک بڑے بڑے عالموں کے ساتھ جاتے رہتے ہیں، ان کے یہاں گورنمنٹ کے پراجکٹ کا کام ہوتا ہے اور وہ اپنے ملازمین کو پندرہ یوم پر تنخواہ دیتے تھے لیکن اب سات سال سے وہ وقت مقررہ پر ملازمین کو تنخواہ نہیں دیتے ہیں اور ملازمین پریشان ہو کر نا امید ہو کر چلے جاتے ہیں۔ اور وہ رئیس ہر سال ہندوستان کے ایک بہت بڑے دینی تعلیمی ادارہ کو زکوۃ دیتے ہیں اور اس دینی ادارہ کے ناظم بھی بہت بڑے عالم ہیں۔ ساتھ ہی وہ رئیس ان کے مرید بھی ہیں۔

جواب

اگر واقعہ اسی طرح ہے تو ان رئیس صاحب کی بڑی کوتاہی ہے جو ظلم کی حد میں داخل ہے۔ حقوق العباد کو ادا نہ کرنا اور مزدوروں کی تنخواہ کو ان کے پورے کام کے باوجود ضبط کر لینا جس سے وہ پریشان ہو کر چلے جائیں معمولی چیز نہیں نہایت سخت چیز ہے۔ دو پیسے (پرانے) اگر کسی کے رکھ لئے اور نہیں دیئے تو قیامت کے دن سات سو فرض مقبول نمازیں اس کے عوض میں دلائی جائیں گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو