الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چندہ کا روپیہ جلسۂ انعامی میں خرچ کرنا

سوال

یہاں مدرسہ اسلامیہ کے لئے قصبہ سے سالانہ چندہ کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تعداد صدقات واجبہ، زکوۃ، چرم قربانی کی ہوتی ہے اور مصارف مدرسہ تنخواہ مدرسین اور خرچ یتیم خانہ دو بڑی مدیں ہیں۔ اس کے علاوہ روزمرہ کے کچھ متفرق خرچ ہو جاتا ہے۔ چندہ دہندگان کے ذہن میں اخراجات مدرسہ کی تفصیل نہیں ہوتی اور نہ ہر ہر وقت ان سے ہر ہر خرچ کی اجازت لی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو تین سال میں جلسہ انعامی بھی ہوتا ہے، جس میں طلباء کو کتابیں انعام میں اور علماء کا خرچ آمد و رفت دیا جاتا ہے۔

جواب

اگر چندہ دہندگان نے مصرف کی تعیین کر دی ہے تو اسی مصرف پر چندہ صرف کیا جائے گا اس کے خلاف نہ کیا جائے۔ اگر مصرف کی تعیین نہیں کی بلکہ مہتم کو مصالح مدرسہ میں صرف کرنے کا کلی اختیار دیدیا ہے تو پھر ہر مصلحت میں صرف کرنا درست ہے۔ جن رقوم میں تملیک واجب ہے ان کو بغیر تملیک کے غیر محل یعنی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو