مدرسہ کے کاغذات، مہریں، رسیدیں لیکر چندہ کیا اس کا حکم
سوال
مدرسه اسلامیه حنفیه سعادت گنج بارہ بنکی کے ناظم وصدر صاحب کچھ عرصہ تک بخوبی اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں، انہوں نے حنفیہ پارٹی بنالی اور ایک دن موقع پا کر مدرسہ مذکورہ کا تمام ضروری سامان، کاغذات، رقم، رسیدیں، مہریں وغیرہ اٹھا کر چلے گئے اور پھر کسی طرح کارکنوں سے مصالحت نہ ہو سکی۔ سوالات یہ ہیں کہ (۱) مدرسہ مذکورہ کی رقم واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ (۲) مدرسہ کا سامان، مہریں وغیرہ واپس کرنا چاہئے یا نہیں؟ (۳) مدرسہ مذکورہ کی رسیدوں سے وصول کی ہوئی رقم مدرسہ ہی کی ہے یا نہیں؟ (۴)
جواب
(۱) مدرسہ کی رقم ذاتی مصارف میں خرچ کرنا جائز نہیں، اس کی واپسی ضروری ہے۔ (۲) اس سب کی بھی واپسی ضروری ہے۔ (۳) وہ رقم بھی مدرسہ کی ہے۔ (۴) سابق مدرسہ کے نام پر اس کی رسیدوں سے چندہ وصول کر کے اپنے لئے قائم کردہ مدرسہ میں صرف کرنا درست نہیں، جبکہ سابق مدرسہ موجود ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔