مدرسہ کے طلباء وطالبات کی امداد اور ان کو محبوب وغیرہ الفاظ بولنا
سوال
زید ایک ہمدرد قوم ہے۔ بہت سے طلباء وطالبات کی خود بھی امداد کرتا ہے۔ اور دوسروں سے بھی کراتا ہے۔ کیا زید کا یہ عمل قابلِ طعن ہے؟ کیا ان لڑکے اور لڑکیوں کو زید کا غلام،لونڈی، بیوی، معشوق اور محبوب بولنا صحیح ہے؟ یہ الزام اور بہتان ہے یا نہیں؟
جواب
جو شخص محض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے علم دین حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کی اعانت کرتا ہے۔ ذاتی و نفسانی خواہش و مفاد پیش نظر نہیں، تو اللہ کے نزدیک اس کا رتبہ بہت بلند ہے۔ اور بہت بڑے اجر و ثواب کا مستحق ہے۔ اس کے لئے طعن و ملامت کا لفظ بولنا جائز نہیں۔ بے بنیاد الزام اور تہمت لگانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔