الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صغیر وکبیر کے مخلوط مال سے چندہ

سوال

زید اور بکر دو بھائی ہیں اپنے باپ کے مرنے کی وجہ سے دونوں مال متروکہ کے وارث ہوئے۔ بکر نابالغ یتیم ہے اور مال مشترک ہے اور زید بالغ ہے اور روزی کر کے مال متروکہ کو بڑھاتا ہے جتنی جائداد ہے اس کی حفاظت وغیرہ بھی کرتا ہے۔ زید اس مالِ مشترک سے قربانی ادا کرتا ہے صدقات دیتا ہے نیز لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے مدرسہ وغیرہ دینی کاموں میں چندہ بھی دیتا ہے۔ زید کو مذکورہ کارِ خیر کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ یا یہ بھی مالِ مشترک شمار کیا جائے گا حالانکہ بکر کچھ روزی نہیں کماتا۔ (۲)

جواب

(۱) مال مشترک سے ایسے مواقع میں خرچ کرنا درست نہیں کیونکہ ہر دو بھائی ایک دوسرے کے مال میں تصرف کا حق نہیں رکھتے بلکہ بمنزلہ اجنبی کے ہیں کذافی العالمگیری. البتہ جو روزی وہ علیحدہ کماتا ہے اسمیں تصرف کر سکتا ہے، مواقع مذکورہ میں بھی صرف کر سکتا ہے۔ (۲) جہاں ظن غالب ہو کہ یہ یتیموں کے مخلوط مال سے چندہ دیتا ہے وہاں تفتیش کر لی جاوے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو