الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کے نام پر چندہ کرنا اور مدرسہ میں نہ دینا

سوال

ایک مدرس نے جن کو مدرسہ سے علیحدہ کر دیا ہے اس مدرسہ کے نام سے چندہ وصول کرتے پھرتے ہیں۔ عید الفطر کے موقعہ پر کرنال کی عید گاہ میں اعلان کیا کہ مدرسہ عربیہ محمدیہ دریا برد ہو گیا ہے۔ اس کی امداد کرو تو ان لوگوں نے مدرسہ کے نام پر کافی روپیہ ان مدرس کو دیا وہ اس روپیہ کو کھا گئے عید کے موقع پر جو لوگ مدرسہ کی امداد کرتے تھے ان کو بہکا کر جبراً صدقه فطر، زکوۃ وغیرہ مدرسہ میں اس روپیہ کو جانے نہیں دیا۔ جس سے مدرسہ کو کافی نقصان پہنچایا بلکہ اور شخص فقیر کو مدرسہ کی ضد پر یہ رو پیروغیرہ دلایا۔

جواب

یہ حرکت شرعاً معصیت ہے۔ جھوٹ ہے دھوکہ ہے۔ اگر زکوۃ فطرہ کو صحیح مصرف میں صرف نہیں کیا تو ان مدرسین پر ضمان واجب ہے۔ ان کے اس جھوٹ کو لوگوں پر ظاہر کر دیا جائے کہ ان مدرس نے مدرسہ محمدیہ کے نام سے چندہ وصول کیا اور مدرسہ محمدیہ کو نہیں دیا تو شرعاً اس کی اجازت ہے تا کہ آئندہ وہ احتیاط رکھیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو