چندہ مدرسہ سے دوکانیں بنانا
سوال
ایک مدرسہ کی تعمیر چندہ کے روپیہ سے کی گئی ہے۔ اب مہتمم صاحب کی یہ رائے ہے کہ اس مدرسہ کی چار دکانیں نکال دی جائیں اور اسی کے اوپر اس کے بجائے مدرسہ تعمیر کرالیا جائے تا کہ مدرسہ میں کرایہ کی آمدنی آتی رہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے شرعاً یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر اہل محلہ اور چندہ دہندگان کو اس پر اعتراض نہ ہو تو یہ درست ہے۔ اگر مدرسہ بن چکا ہے تو اب اس میں دوکان بنانا جائز نہیں، اگر ابھی بنا نہیں اور چندہ دینے والے راضی ہیں تو جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔