الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تبلیغ کے لئے مدرسہ سے تنخواہ

سوال

کیا کوئی شخص تبلیغ کا کام کر کے مدرسہ سے تنخواہ کا پیسہ لے سکتا ہے۔ مثلاً زید نے یہ طے کیا کہ اگر مجھے تبلیغ کے کام سے دو چار روز چھٹی ملی تو پڑھا دوں گا ورنہ نہیں۔

جواب

اہل مدرسہ تعلیم کیلئے بھی ملازم رکھتے ہیں تبلیغ کیلئے بھی رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر معاملہ تعلیم کے لئے کیا گیا ہو تو مدرس کو اس کی پابندی لازم ہوگی۔ اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ چار دن چھ دن موقع مل گیا تو پڑھا دوں گا، ورنہ تبلیغ کروں گا۔ اس سے تعلیم کا حرج ہوگا اور زکوۃ سے تنخواہ دینا براہ راست کسی کو بھی جائز نہیں ہے۔ نہ معلم کو نہ مبلغ کو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو