پراویڈنٹ فنڈ دینی مدرسہ میں
سوال
آج کل دنیوی فیکٹریوں اور کالجوں کے علاوہ بھی بعض مدرسہ دینیہ میں جو حضرات که مدرس یا ملازم ہیں ان لوگوں کی تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم روک لی جاتی ہے (اور یہ روکنا ان کی مرضی سے ہوتا ہے) مثلاً ہر ماہ دس روپیہ روک لیا جاتا ہے تو منجانب مدرسہ بھی اتنی ہی رقم ملا کر فنڈ میں جمع کر دیتے ہیں اور اس فنڈ کو پراویڈنٹ فنڈ کہا جاتا ہے۔
جواب
مدرس یا ملازم کی رضامندی سے جزء تنخواہ جمع کرنا پھر اختتام ملازمت پر جمع شدہ مع اضافہ دینا درست ہے۔ یہ اضافہ حسن خدمات کی وجہ سے انعام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔