الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرض میں تنخواہ کو محسوب کرنا

سوال

ایک شخص مدرسہ چلاتا تھا، اس نے اپنے کام کے لئے مجبوراً مدرسہ کا روپیہ قرض لیا اور نیت کی کہ ضرور ادا کر دوں گا۔ مگر کسی مجبوری کو نہیں بتلایا۔ اس کے بعد بلا تنخواہ چند ماہ کام کیا اور گھر میں ظاہر کیا کہ ہم تو بلا تنخواہ کے کام کر رہے ہیں (گویا کہ قرض میں وضع کر دیں گے) لیکن کسی مجبوری کو نہیں بتلایا۔ تو تنخواہ نہ لینے کا روپیہ قرض میں محسوب سمجھا جائے گا یا نہیں جبکہ مقروض کا انتقال ہو چکا ہے اور مدرسہ بھی ختم ہو چکا؟

جواب

پڑھانے کا معاملہ نہیں کیا گیا تنخواہ مقرر نہیں کی گئی۔ اسلئے اس قرض کو محسوب کرنے کا حق نہیں۔ یہ مدرسہ میں بلا تنخواہ کام کرنا تبرع اور احسان ہے اس کا اجر ملے گا۔ جتنا روپیہ چندہ کا اپنے کام میں خرچ کیا ہے وہ قرض ہے۔ ورثہ اگر ادا کرنا چاہتے ہیں تو پورا روپیہ ادا کر دیں، اور دینی مدرسہ میں جہاں مناسب ہو دیدیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو