مدرس کو ڈیڑھ سوروپیہ دے کر دو سو پر دستخط لینا
سوال
ایک دینی مدرسہ گورنمنٹ سے ملحق ہے اور گورنمنٹ کے اسکیل کے مطابق مدرسین کی تنخواہیں متعین ہیں جس میں گورنمنٹ مدرسین کی آدھی تنخواہ و مہنگائی وغیرہ بذریعہ منیجر و مدرسه مدرسین کو دیتی ہے لیکن مینیجر اور مجلس منتظمہ اس رقم کا (چوتھائی) حصہ مدرسین سے جبراً لیتی ہے اور اگر کوئی مدرس دینے کے لئے آمادہ نہ ہو تو اخراج کی دھمکی دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ پھر اپنی مرضی کے مطابق مدرسین کو مثلاً کسی کی تنخواہ دوسو روپیہ ہے تو ڈیڑھ سوروپیہ دے کر دو سو پر دستخط لیتے ہیں۔
جواب
منتظمہ کا یہ طرز عمل جھوٹ ہے، خیانت ہے بد دیانتی ہے، ظلم ہے، مدرسین مظلوم ہیں۔ جتنا صبر کریں گے ان کو اجر ملے گا۔ یہ کاٹا ہوا روپیہ منتظمہ کے لئے نہ خود رکھنا درست ہے، نہ مدرسہ کے کسی کام میں خرچ کرنے کا حق ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔