الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ملازم مدرسہ کی اولاد کا مدرسہ کے مکان میں رہنا

سوال

ہندوستان سے پانچ سال کی مدت کیلئے ایک استاذ مدرسہ میں پڑھانے کی غرض سے بلائے گئے، یہاں انکو تنخواہ کے علاوہ مدرسہ کیلئے وقف شدہ مکان بلا کرایہ دیا گیا جس میں ہر ماہ پانی اور بجلی کا خرچ بھی مدرسہ کے ذمہ رہا، پانچ سال پورے ہونے پر ملازمت کی تجدید نہیں کی گئی۔ مگر موصوف نے پڑھانے کا کام جاری رکھا۔ اور اس اوقاف کے مکان میں موصوف کے دونوں صاحبزادوں کا قیام ہے۔

جواب

جب معاملہ ملازمت کا پانچ سال کے لئے تھا تو مدت پوری ہونے پر ملازمت ختم ہوگئی۔ نہ مدرسہ کے مکان میں قیام کا حق رہا نہ تنخواہ کا استحقاق باقی رہا۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد اہل مدرسہ نے ان کو بدستور کام پر رکھا۔ وہ کام کرتے رہے، تنخواہ ملتی رہی، مدرسہ کے مکان میں قیام رہا۔ تو یہ عملی طور پر گویا معاملہ ملازمت بشرط سابق تجدید ہوگئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو