الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کا مکان کرایہ دار سے خالی کرانا

سوال

ایک مسلمان حجام نے اپنا مکان کرایہ پر دوسرے کو دیدیا ہے۔ اس پر کرایہ دار نے چکی لگا دی۔ کچھ عرصہ کے بعد مالک مکان نے خالی کرانے کی کوشش کی۔ کرایہ دار نے خالی نہیں کیا۔ مالک مکان نے نصف مکان مدرسہ اسلامیہ میں دیدیا ہے اور بقیہ نصف مکان عید گاہ کی مرمت کے لئے وقف کر دیا ہے۔ جس نصف مکان کو مدرسہ میں دیا تھا اس میں تین کمرے تیار ہوئے ہیں جن میں سے دو کمروں میں مدرسہ کا کام ہو رہا ہے اور ایک کمرہ سابق کرایہ دار کے قبضہ میں ہے دو روپیہ ماہوار کرایہ دیتا ہے۔

جواب

مدرسہ کا کمرہ اس چکی والے سے خالی کرا کے دوسرے شخص کو آباد کرا دیا جائے۔ اس کیلئے قانونی چارہ جوئی کیجائے۔ اگر اہل مدرسہ مناسب سمجھیں تو موجودہ کرایہ دار کو خالی کرانے کا نوٹس دیدیں کہ مدرسہ کیلئے ضرورت ہے اور قانوناً ایسی صورت میں وہ خالی کرنے پر مجبور ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو