الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعلیم گاہ کو کرایہ پر دینا

سوال

دینی تعلیم کے لئے ایک عمارت برادری کے پیسے سے بنائی گئی لیکن شہر کے جو مدرسہ کے ذمہ دار اور امین و متولی ہیں ان لوگوں نے عام لوگوں کی رائے کے بغیر اس عمارت کو تعلیم کا کام بند کر کے سرکار کو تین سو روپے ماہوار میں کرایہ پر دیدیا۔ اب بچے تعلیم کے پریشان ہیں۔ کیا امین اور متولی کا ایسا فعل شرعاً جائز ہے؟ ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے جن کو بچوں کی تعلیم سے زیادہ دنیوی روپے پیسے محبوب ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ دینی تعلیم بھی ضروری ہے اور یہ قوم کی امانت ہے۔ تو جواب دیا کہ پڑھاؤ یا نہ پڑھاؤ ہم نے دیدیا۔

جواب

جو عمارت دینی تعلیم کے لئے عام مسلمانوں کے چندہ سے بنائی گئی اور وہاں دینی تعلیم ہوتی ہے تو ایسی عمارت کو روپے حاصل کرنے کے لئے کرایہ پر دیدینا اور دینی تعلیم کو بند کرنا متولی کے لئے شرعاً درست نہیں۔ ایسے شخص کو متولی نہ بنایا جائے۔ اگر صورت حال کچھ اور ہے تو اس کو تفصیل سے لکھیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو