مدرسہ امدادیہ مراد آباد کی چھت پر مسجد شاہی کا پرنالہ
سوال
(۱) مسجد شاہی مراد آباد کے شمالی جانب چھت کا کچھ حصہ مسجد کی وسطی چھت سے نیچا ہے اس حصہ کا پرنالہ شمال کی جانب مدرسہ امدادیہ میں جاری تھا، اب مدرسہ امدادیہ والوں نے یہ پرنالہ بند کر دیا ہے، اور اس پر نالہ کے پانی کے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے مسجد کی چھت کے اس حصہ پر برساتی پانی رک کر مسجد کی دیوار کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور دیوار کے گرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ (۲)
جواب
(۱) اگر یہ پرنالہ زمانہ قدیم سے ہے اب نیا نہیں بنایا گیا تو اس کو بدستور جاری رکھا جائے مفتی بہ قول کے موافق اس کو روکنے اور بند کرنے کا حق نہیں۔ (۲) مسجد کی دیوار پر گاٹر لینٹر کڑی وغیرہ رکھ کر مسجد سے متعلق کوئی تعمیر کرنا بھی درست نہیں چہ جائیکہ مدرسہ کی تعمیر کی جائے، اس کا وہاں سے ہٹانا ضروری ہے ”لوبني فوقه بيتاً للامام لا يضر لانه من المصالح اما لو تمت المسجدية ثم اراد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔