مدرسہ موقوفہ کی جگہ بارات کے لئے کرایہ پر دینا
سوال
ہمارے گاؤں کھیڑی کی آبادی ۱۹۴۷ء سے پہلے تقریباً چھ سو مسلمان گھروں پر مشتمل تھی۔ اس دوران یہاں ایک چھوٹا مدرسہ قائم کیا گیا، جب اس کے اندر طلبا نہ آسکے تو پھر ایک بہت بڑا مدرسہ قائم کیا گیا تھا۔ مگر خدا کی شان کی بات ہے۔ گڑ بڑ ہو جانے کی وجہ سے تمام مسلمان چلے گئے۔ صرف پچاس ساٹھ گھر مسلمانوں کے رہ گئے۔ اب جو چھوٹا مدرسہ ہے اس کے اندر ہم لوگ یہاں شادی میں آنے جانے والے آدمیوں کے اتارنے کا سلسلہ چل رہا ہے اور بڑے مدرسہ کے اندر دس پندرہ بچے پڑھنے والے ہیں۔ وہ وہاں تعلیم پاتے ہیں۔
جواب
چھوٹا اور پرانا مدرسہ جو خالی پڑا ہے اس میں جو لوگ بیاہ شادی میں مہمانوں کو ٹھہراتے ہیں ان سے کچھ کرایہ لیا جائے اور وہ کرایہ کی رقم نئے مدرسہ میں جو بڑا ہے اور آباد ہے اس میں خرچ کیا جائے۔ فطرہ اور قیمت چرم قربانی مسافر خانہ کی تعمیر وغیرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔