اپنی کتاب مدرسہ کے لئے وقف کرنا
سوال
کسی نے کتاب وغیرہ مدرسہ میں وقف کر دیا۔ یہ لکھ دیا کہ میرے بعد مدرسہ بیت العلوم سرائے میر پر یہ کتابیں وقف ہیں، تو کیا مدرسہ مذکور کو ہی دینا ضروری ہے یا دوسرے مدرسہ کو دے سکتا ہے؟ اگر دوسرے غریب کو دیدے تو گنہگار تو نہیں ہوگا؟ دوسرے یہ کہ صاحب نصاب کو کوئی چیز وقف کر سکتا ہے یا نہیں؟ میں نے ایک کتاب پر لکھ دیا تھا کہ مدرسہ بیت العلوم پر یہ کتاب وقف ہے۔ بعد کو مدرسہ کا نام کاٹ دیا۔ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو باوجو د ورثاء کے بیچ ڈالے یا کسی کو دیدے تو کوئی گناہ تو نہیں۔
جواب
اپنے (مرنے کے بعد مدرسہ میں کتاب وقف کرنے کے لئے کہنا یا لکھ دینا وصیت ہے، ایک تہائی مال کے اندر اندر اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں اگر وصیت سے رجوع کرنا چاہے تو اس کو حق ہے۔ شرطه شرط سائر التبرعات وان يكون منجزاً لا معلقاً الا بكائن ولا مضافا اه (درمختار) قوله ولا مضافاً يعني الى ما بعد الموت......
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔