لاوارث زمین میں مدرسہ بنانا
سوال
ایک مدرسہ ہم لوگوں نے ایسی جگہ قائم کیا ہے جو زمین تکیہ دار کے نام سے مشہور تھی پھر وہاں امام باڑہ بنایا گیا تو اس نام سے مشہور ہوگئی اس زمین میں آٹھ دس قبریں تھیں۔ قبریں مسمار ہونے پر لوگ رہنے لگے۔ امام باڑہ کی تعمیر کا نشان ابھی تک باقی ہے۔ ہم نے اس میں دینی تعلیم کا مدرسہ قائم کر لیا ہے۔ کچھ دیوار بھی بنالی ہیں تو اس جگہ پر دینی مدرسہ رکھنا مناسب ہے یا نہیں؟
جواب
آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ قبروں کے لئے تھی اور مدت دراز سے وہاں کسی کو دفن نہیں کیا گیا۔ پرانی قبریں ختم ہو جانے پر لوگ وہاں رہنے لگے پھر وہاں امام باڑہ بنالیا گیا۔ گویا کہ وہ جگہ لاوارث اور وقف ہے یعنی اس کا کوئی مالک ہی نہیں۔ جو چاہتا ہے قبضہ کر لیتا ہے ایسی جگہ پر اگر دینی تعلیم کا مدرسہ بنا لیا جائے تو درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔