مدرسہ کو دوسری جگہ منتقل کرنا
سوال
اگر مدرسہ دوسری جگہ منتقل ہوا یا درمیان میں نام بدل دیا گیا پھر اس کا نام وہی رکھا گیا تو کیا مہتمم مدرسہ کسی شرعی قباحت میں ماخوذ ہوگا۔
جواب
بلا ضرورت مدرسہ کو دوسری جگہ منتقل کرنا غرض واقف کے خلاف ہے اور منشاء واقف کو حتی الوسع پورا کرنا لازم اور اس کی مخالفت ممنوع ہے۔ البتہ اگر پہلی جگہ غیر آباد ہو جائے تو دوسری جگہ منتقل کرنا اور نام بدلنا سب کچھ درست ہے کہ اس میں اضاعت سے حفاظت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔