مدرسہ کیلئے وقف شدہ زمین پر دخل کرنے میں فساد کا اندیشہ ہو
سوال
زید، بکر، عمر نے کچھ زمین مدرسہ شاہ پور میں وقف کیا۔ مدرسہ کے ممبران اس پر دخل نہیں کر سکے۔ اگر دخل کرتے ہیں تو بڑا فساد ہوگا۔ خون کا بے حد خطرہ ہے۔ اس زمین کے خریدار ہیں تو کیا اس کا بیچنا جائز ہے۔ اسے بیچ کر دوسری زمین مدرسہ شاہ پور کے لئے دینا جائز ہوگا اور جن لوگوں نے مدرسہ کو وقف کیا اس کو واپس دینا فرماتے ہیں۔
جواب
جو زمین مدرسہ شاہ پور میں دی گئی ہے اگر اس پر قبضہ کرنے میں فساد اور خون ہو جائے گا تو مجبوراً اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری مناسب زمین خرید کر اسی مدرسہ میں دے دینا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔