الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غاصبانہ قبضہ کر کے اسلامیہ اسکول بنانا

سوال

متصل مسجد ایک بلڈنگ تعمیر ہے ۱۸ مئی ۱۸۸۳ء میں جو سرکاری تقسیم ہوئی تھی اس کے اندر یہ بلڈنگ امام باڑہ مربع ہے جب سے لے کر آج تک امام باڑہ کی حیثیت سے ہوتا چلا آرہا ہے ۱۸۸۴ء سے لے کر آج تک شیعہ فرقہ اس کا زمیندار ہے۔ اب ہم فریقین اہل سنت والجماعت کے دو گروہ ہیں ایک گروہ کا یہ خیال ہے کہ اس امام باڑہ پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسلامیہ اسکول قائم کر لیا جائے اور ایک گروہ کا یہ خیال ہے کہ بغیر زمیندار صاحبان کی اجازت کے اسکول قائم کرنا جائز نہیں ہے لہذا آپ سے استدعاء ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل فرمادیجئے گا…

جواب

غاصبانہ قبضہ میں بڑے مفاسد ہیں شرعاً بھی اس میں قباحت ہے اور قانوناً بھی جرم ہے سر پھوٹنے کا بھی اندیشہ ہے مقدمہ بازی کا بھی سخت خطرہ ہے۔ زمیندار سے مل کر سمجھوتہ کر لینا بہتر ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو