ایک مدرسہ کے متعلق نزاع
سوال
ایک واقف نے حسب ذیل شرائط کے ساتھ اپنا مکان مدرسہ کیلئے میمن جماعت کو وقف کر کے سپرد کیا تھا۔ شرائط یہ تھیں: (۱) مدرسہ میں اہل سنت والجماعت بچوں کو تعلیم دیجائے (۲) تعلیم کی کوئی فیس نہ لی جائے (۳) مدرسہ میں انگریزی تعلیم نہ دیجائے۔ ان شرطوں کے ساتھ یہ مدرسہ تقریباً ساٹھ برس سے چلتا رہا۔ فی الحال میمن جماعت نے مدرسہ کیلئے نیا مکان بنوایا ہے۔ اور اس مدرسہ کو متولی کو واپس کر دیا ہے۔ اب یہ مدرسہ چھ ماہ سے بند پڑا ہے۔ مدرسہ قدیم کی کوئی آمدنی نہیں ہے کہ جس سے مدرسہ کو چلایا جا سکے۔
جواب
جو حضرات بھی قرآن کریم اور دینی تعلیم کا انتظام کر سکیں ان کے حوالہ کر دیا جائے تا کہ واقف کو ثواب پہونچتا رہے اور مدرسہ کو چالو کر دیا جائے۔ (۲) اگر آمدنی کی کوئی صورت نہیں تو بالائی حصے میں تعلیم کا انتظام کر دیا جائے اور تحتانی (نیچے) کا حصہ کرایہ پر دیدیا جائے تا کہ اسکی آمدنی سے مدرسہ کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔