دینی مدارس کی مثال صحابہ اور تابعین کے دور میں
سوال
فی زماننا ہمارے ملک میں بہتیرے دینی مدارس قائم ہیں جن میں تعلیم کے ساتھ طلبہ کے طعام و قیام کا بھی بندو بست ہے۔ آمدنی کے تمام ذرائع عام طور پر عوام کے چندے زکوۃ وصدقات ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ کیا اس کی مثال صحابہ اور تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانہ میں ملتی ہے۔ اگر نہیں تو پھر جواز کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
دور حاضر کے دینی مدارس اور موجودہ زمانہ کی درسگاہوں کی مثال پر عہد نبوت علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام میں اصحاب صفہ کی زندگی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔