الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دینی مکتب و مدرسہ کو ذاتی ملک سمجھنا

سوال

ایک دینی مکتب و مدرسہ جو عوام کے تعاون سے چلتا ہو، جس میں مقامی مسلمانوں کا کم اور بیرونی مسلمانوں کا تعاون زیادہ ہو، کیا ایسے مکتب یا مدرسہ کو کوئی مخصوص قوم یا کوئی مخصوص خاندان یا کوئی مخصوص انسان اپنی ملکیت یا جاگیر سمجھے یا اپنی ملکیت بنانے کی سعی کرے تو ایسے صورت میں ایسی ملکیت اور مدرسہ کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اور ایسی قوم، ایسے خاندان، ایسے انسان کیلئے شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

ایسا مدرسہ کسی شخص یا کسی خاندان کی ذاتی ملک نہیں، نہ اس پر دعوی ملکیت صحیح و قابل تسلیم ہے۔ جو چیز اپنی ملک نہ ہو اس کو اپنی ملکیت سمجھنا یا قرار دینا غلط ہے۔ کسی ایسے غلط عمل کی وجہ سے دینی مدرسہ سے تعلق منقطع نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرتے رہنا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو