مدرسہ تعلیم الدین میں دنیوی تعلیم کا غلبہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ حضرت مصلح الامت شاہ وصی اللہ صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا اور انہوں نے اس مدرسہ کا نام تجویز کر کے مدرسہ تعلیم الدین رکھا اور سنگ بنیاد شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے مقدس ہاتھوں سے دیگر اکابر علماء حق کی موجودگی میں رکھا مدرسہ کی بنیاد محض دینی و مذہبی تعلیم و تربیت کے پیش نظر رکھی گئی تھی اور اب تک جتنی عمارتیں مدرسہ کی تعمیر ہوئی ہیں سب تعلیم الدین ہی کے نام پر بنی ہوئی ہیں اور ذریعہ آمدنی چرم قربانی زکوۃ فطرہ کے پیسہ ہیں لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ آہستہ…
جواب
جو عمارت دینی تعلیم کے لئے بنائی گئی اور وقف کی گئی ہے اس کو دنیوی تعلیم کے لئے استعمال کرنا شرعاً درست نہیں۔ لان شرط الواقف كنص الشارع اس کا نام بدلنا بھی درست نہیں۔ زکوۃ فطرہ قیمت چرم قربانی کا مصرف غرباء وفقراء ہیں کسی مالدار کو دینا یا تعمیر و تنخواہ وغیرہ میں براہ راست خرچ کرنا جائز نہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔