مہتم طلبہ کا وکیل ہے یا معطی کا
سوال
مہتمم مدرسہ غرباء کا وکیل ہوتا ہے یا ارباب اموال کا؟ ارباب اموال اور غرباء کے وکیل کی کیا تعریف ہے اور کیا حد ہے؟ ان دونوں کا وکیل کوئی کس طرح بنتا ہے دونوں میں امتیازی فرق کیا ہے؟
جواب
مہتمم مدرسہ کو ارباب اموال نے صراحة وکیل بنایا ہے کہ ہمارا مال حسب صوابدید مصارف میں صرف کر دیں۔ غرباء کا بھی وکیل ہے اس طرح کہ طلبہ نے جب اس کے اہتمام کو تسلیم کر لیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ آپ ہمارے واسطے ارباب اموال سے زکوۃ وغیرہ وصول کر کے ہماری ضروریات (کھانا کپڑا وغیرہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔