منیجر نے دینی مدرسہ بند کر دیا اس کا حکم
سوال
ایک قصبہ میں عرصہ سے ایک مدرسہ اسلامیہ چل رہا ہے جس کا انتظام چند ممبران کی کمیٹی اور ایک منیجر کے سپر د ہے، جملہ مسلمان مدرسہ میں چندہ دے کر مدرسہ کی اعانت کرتے ہیں اور عام مسلمانوں کے پیسہ سے مدرسہ کا کام چلتا ہے۔ سبھی مسلمانوں کے بچے مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اب عرصہ ایک ماہ ہوا کہ بغیر کسی وجہ اور میٹنگ اور بغیر کسی مشورہ کے منیجر مذکور نے مدرسہ کو تالا لگا دیا۔ بچوں کی دینی تعلیم بند ہوگئی۔ اب جملہ مسلمان پریشان ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ منیجر کو بدل دیں۔
جواب
بلا وجہ دینی مدرسہ کو بند کرنا اور تالا ڈالنا درست نہیں۔ منیجر کوئی وجہ معقول پیش نہ کرے تو علیحدہ گی کا مستحق ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔