تین مسجدیں دہلی میں شہید کر دی گئیں اب ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے
سوال
دہلی کی تین مسجدیں جس ڈھٹائی کے ساتھ دہلی کارپوریشن کی طرف سے شہید کر دی گئیں اور ہندوستان کے کسی بھی مقام پر کسی وقت بھی غنڈوں یا میونسپلٹیوں کی طرف سے اس طرح شہید کرنے کا خطرہ لگا ہوا ہے، ایسی صورت میں ہندوستان یا دہلی دارالامن قرار پاتا ہے، یا دار الحرب؟ شہید کی ہوئی مسجدوں کے متعلق اب مسلمانان دہلی ہندوستان و دنیا کو کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کیا کرنا چاہئے؟
جواب
مساجد کا شہید کرنا خلاف قانون ہے، قانونی چارہ جوئی کی جائے، اگر کوئی حرکت کسی شہر یا ملک میں خلاف قانون سرزد ہو اور اس پر حق حاصل ہوتے ہوئے بھی قانونی چارہ جوئی نہ کی جائے تو اس سے اس شہر یا ملک کا حکم نہیں بدلے گا، اس کو اپنی کمزوری اور کوتا ہی قرار دیا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔