مخصوص مسجد کو جان کے اندیشہ سے چھوڑنا
سوال
جس مسجد پر فساق کا غلبہ ہو، جس مسجد پر فسق و فجور کے خلاف کسی دینی حکم کو شائع نہ کیا جا سکتا ہو، اور جس مسجد میں ادائیگی نماز کے لئے جاتے ہوئے نمازیوں پر قاتلانہ حملہ کیا جاتا ہو جبکہ وہ لوگ کسی فساد میں بھی شریک ہوتے ہوں، اور جس مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے موضع کے تین چوتھائی مسلمان اپنی آبرو کا خطرہ محسوس کرتے ہوں کیا وہ مسجد پورے موضع کی جامع مسجد رہنے کے قابل ہے؟ کیا اس صورت میں اس جدید تعمیر شدہ مسجد میں عام نمازیں اور بشمول نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جس شخص کو ایک مسجد میں جانے سے جان کا یا عزت کا خطرہ ہو وہ دوسری مسجد میں جا کر نماز ادا کر لے، حسب ضرورت و مصلحت ایک سے زائد مساجد میں بھی جمعہ درست ہے، جھگڑے اور فساد سے پورا پورا پرہیز کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔